![]() |
| Goiter |
گلہٹر (Goiter)
وجوہات، علامات، ہومیوپیتھک علاج اور دیسی نسخے
گلہٹر ایک عام مگر اہم طبی مسئلہ ہے جو تھائیرائیڈ گلینڈ کی سوجن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ بیماری مرد و خواتین دونوں کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم خواتین میں اس کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔ تھائیرائیڈ گلینڈ جسم کے میٹابولزم کو کنٹرول کرتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی خرابی متعدد جسمانی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
گلہٹر کی وجوہات
آیوڈین کی کمی
آیوڈین تھائیرائیڈ ہارمونس کی تیاری کے لیے انتہائی ضروری عنصر ہے۔ جب جسم میں آیوڈین کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو تھائیرائیڈ گلینڈ زیادہ ہارمونس بنانے کے لیے بڑھنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں گلہٹر پیدا ہوتا ہے۔
ہاشیموٹوز ڈیزیز
یہ ایک آٹو امیون بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام تھائیرائیڈ گلینڈ پر حملہ کرتا ہے۔ اس حملے کی وجہ سے تھائیرائیڈ گلینڈ سوج جاتا ہے اور گلہٹر کی صورت اختیار کرتا ہے۔
گریوز ڈیزیز
گریوز ڈیزیز بھی ایک آٹو امیون مرض ہے جس میں تھائیرائیڈ گلینڈ ضرورت سے زیادہ ہارمونس بنانے لگتا ہے، جس سے گلینڈ کا سائز بڑھ جاتا ہے اور گلہٹر نمودار ہوتا ہے۔
ادویات کا اثر
کچھ مخصوص ادویات جیسے لیٹھیم کا استعمال بھی تھائیرائیڈ گلینڈ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور گلہٹر کا باعث بن سکتا ہے۔
وراثتی عوامل
اگر خاندان میں کسی کو تھائیرائیڈ کی بیماری رہی ہو تو دیگر افراد میں اس بیماری کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
گلہٹر کی علامات
گلے میں ابھار یا سوجن محسوس ہونا
نگلنے یا سانس لینے میں دشواری
گلے میں خراش یا مسلسل کھانسی
آواز میں بھاری پن یا تبدیلی
دباؤ یا کھچاؤ کا احساس
بعض اوقات تھکن، نیند میں کمی، وزن میں کمی یا زیادتی بھی ہو سکتی ہے
ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھی میں گلہٹر کے علاج کے لیے مکمل علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہاں کچھ مشہور اور آزمودہ دوائیں پیش کی جا رہی ہیں:
Iodium
جب مریض کو بہت زیادہ بھوک لگے، وزن تیزی سے کم ہو رہا ہو، بے چینی ہو اور جسم پر پسینہ آ رہا ہو تو Iodium بہترین دوا ہے۔
Spongia Tosta
اگر گلے میں خشکی ہو، سانس لینے میں گھٹن ہو، اور یہ علامات رات کو زیادہ بڑھ جائیں تو یہ دوا مفید ہے۔
Calcarea Iodata
یہ دوا ان افراد کے لیے مفید ہے جن کا گلہ ہلکا پھولا ہو اور تھائیرائیڈ گلینڈ بڑھا ہوا ہو۔
Lycopus Virginicus
یہ دوا اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب دل کی دھڑکن تیز ہو اور تھائیرائیڈ گلینڈ زیادہ ہارمونس پیدا کر رہا ہو۔
Baryta Carbonica
اگر گلینڈ سخت اور بڑا ہو گیا ہو، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد میں، تو یہ دوا بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
نوٹ: ہومیوپیتھک دوا ہمیشہ کسی ماہر معالج کے مشورے سے استعمال کریں۔
دیسی نسخے
آیوڈین والا نمک
ہمیشہ آیوڈین ملا نمک استعمال کریں تاکہ آیوڈین کی کمی نہ ہو اور تھائیرائیڈ گلینڈ درست طریقے سے کام کرے۔
لہسن
روزانہ دو سے تین لہسن کے جوے چبانے سے تھائیرائیڈ کی سوجن کم ہو سکتی ہے۔
سبزیاں اور پھل
تازہ سبزیاں، خاص طور پر پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، میتھی اور دھنیا، نیز تازہ پھل اور جوسز کا استعمال گلہٹر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
اخروٹ اور بادام
روزانہ مٹھی بھر اخروٹ اور بادام کھانے سے تھائیرائیڈ گلینڈ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
زیتون کا تیل
گردن پر روزانہ زیتون کے تیل سے مالش کرنے سے سوجن میں کمی آتی ہے۔
شہد اور دارچینی
روزانہ نہار منہ ایک چمچ شہد میں چٹکی بھر دارچینی ملا کر کھانے سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور تھائیرائیڈ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کریں
غذا میں پروٹین، وٹامنز اور منرلز شامل کریں
جنک فوڈ اور بازاری کھانوں سے پرہیز کریں
روزانہ تھوڑی بہت جسمانی سرگرمی ضرور کریں جیسے واک یا یوگا
ذہنی دباؤ سے بچنے کے لیے ریلیکسیشن کی عادت اپنائیں
نتیجہ
گلہٹر ایک ایسی بیماری ہے جس پر اگر بروقت توجہ دی جائے تو مکمل طور پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہومیوپیتھک علاج علامات کی گہرائی تک جا کر نہ صرف بیماری کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ جسم کو توازن میں بھی لاتا ہے۔ دیسی نسخے اور قدرتی طریقے علاج میں مدد دیتے ہیں اور صحت مند زندگی گزارنے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
اپنی صحت کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر آپ کو گلے میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو، تو فوراً کسی ماہر ڈاکٹر یا ہومیوپیتھک معالج سے رجوع کریں۔
مزید معلومات یا مشورے کے لیے
rahmaniswati47@gmail.com
WhatsApp: +923161020137

No comments:
Post a Comment