![]() |
| ٹائفائیڈ کے علاج |
ٹائفائیڈ بخار کیا ہے
ٹائفائیڈ بخار ایک سنگین اور خطرناک بیماری ہے جو جراثیمی انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر ان علاقوں میں پائی جاتی ہے جہاں پانی صاف نہ ہو اور کھانے پینے کی چیزوں میں گندگی یا آلودگی موجود ہو۔ ٹائفائیڈ کا جراثیم جسم میں داخل ہو کر آنتوں کو متاثر کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ خون میں پھیل کر بخار اور دیگر علامات پیدا کرتا ہے۔ یہ بیماری کسی عام بخار کی طرح نہیں بلکہ لمبے عرصے تک رہنے والا ایک پیچیدہ بخار ہے جو اگر وقت پر علاج نہ کیا جائے تو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹائفائیڈ بخار صدیوں سے انسانوں میں پایا جا رہا ہے اور آج بھی ترقی پذیر ممالک میں یہ ایک عام بیماری ہے۔ پانی کی آلودگی، کھانے کی غیر صفائی اور کمزور مدافعتی نظام اس کے پھیلاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹائفائیڈ بخار کو عام زبان میں پیٹ کا بخار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا سب سے زیادہ اثر نظام انہضام پر ہوتا ہے۔
ٹائفائیڈ بخار کی وجوہات
ٹائفائیڈ بخار کی سب سے بڑی وجہ ایک مخصوص جراثیم ہے جسے سالمونیلا ٹائیفی کہا جاتا ہے۔ یہ جراثیم گندے پانی اور آلودہ کھانے کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اکثر وہ لوگ جو ٹائفائیڈ سے متاثر ہوتے ہیں ان کا واسطہ ایسے پانی یا خوراک سے پڑتا ہے جو پہلے سے متاثرہ شخص کے فضلے یا گندگی سے آلودہ ہوتا ہے۔ پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں صاف پانی کی کمی اور نکاسی آب کا ناقص نظام ٹائفائیڈ کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ جراثیم جسم میں داخل ہو کر سب سے پہلے معدہ اور آنتوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور پھر خون میں شامل ہو کر پورے جسم کو متاثر کرتا ہے۔ اس دوران بخار، کمزوری اور پیٹ کی تکالیف شروع ہو جاتی ہیں۔ اکثر یہ بیماری ان لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو باہر کا کھانا زیادہ کھاتے ہیں یا گندے برتنوں اور ناقص صفائی والے ماحول میں رہتے ہیں۔ مدافعتی نظام کمزور ہو تو یہ مرض زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔
ٹائفائیڈ بخار کی علامات
ٹائفائیڈ بخار کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ شروع میں مریض کو ہلکا بخار ہوتا ہے جو شام کے وقت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ بخار مسلسل رہتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مریض کو کمزوری، جسم میں درد، سر میں بھاری پن اور نیند کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
اس بیماری میں پیٹ کی خرابی بہت عام ہے۔ بعض مریضوں کو اسہال ہوتا ہے جبکہ کچھ مریض قبض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ زبان خشک ہو جاتی ہے اور اکثر مریض کی زبان پر سفیدی یا پیلاہٹ نظر آنے لگتی ہے۔ بھوک ختم ہو جاتی ہے اور کھانے کی خواہش نہ ہونے کے برابر رہتی ہے۔
کچھ مریضوں میں ٹائفائیڈ کے دوران سر چکرانا، یادداشت کی کمزوری اور جسمانی تھکن اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ وہ روزمرہ کے کام بھی نہیں کر پاتے۔ شدید صورتوں میں مریض کو بخار کے ساتھ ساتھ پیٹ میں شدید درد اور کبھی کبھار خون آ جانے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
ٹائفائیڈ بخار کے نقصانات اور پیچیدگیاں
اگر ٹائفائیڈ بخار کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جسم پر کئی خطرناک اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ آنتوں کو متاثر کرتا ہے اور ان میں زخم پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں مریض کو خون آنے لگتا ہے اور جان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بخار جسم کی توانائی ختم کر دیتا ہے اور مریض بہت زیادہ کمزور ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن غیر معمولی ہو سکتی ہے اور بلڈ پریشر بھی کم ہو جاتا ہے۔ بچے اور بوڑھے افراد میں یہ بخار زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان کا مدافعتی نظام پہلے ہی کمزور ہوتا ہے۔
ٹائفائیڈ بخار دماغ پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ کچھ مریضوں میں بخار کے دوران ذہنی انتشار، الجھن اور بے ہوشی تک کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر یہ بیماری لمبے عرصے تک جاری رہے تو یہ جگر، گردوں اور دل کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ٹائفائیڈ بخار میں پرہیز
ٹائفائیڈ بخار میں مریض کو سب سے زیادہ پرہیز کھانے پینے کے معاملے میں کرنا چاہیے۔ مریض کو ایسی غذا نہیں کھانی چاہیے جو بھاری ہو اور ہضم نہ ہو سکے۔ تلی ہوئی اور مسالے دار چیزیں سخت نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ معدے اور آنتوں کو مزید کمزور کرتی ہیں۔
مریض کو صاف اور ابلا ہوا پانی پینا چاہیے۔ گندا یا نلکا کا پانی بیماری کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ دودھ بھی ابلا ہوا استعمال کرنا چاہیے۔ نرم اور ہلکی غذا جیسے دلیہ، کھچڑی، سبزیوں کا سوپ اور موسمی پھل فائدہ مند ہیں۔
ٹائفائیڈ کے دوران مریض کو زیادہ آرام کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جسم پہلے ہی کمزور ہو چکا ہوتا ہے۔ صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور مریض کے برتن الگ استعمال کرنے چاہییں تاکہ بیماری دوسروں میں نہ پھیلے۔
ٹائفائیڈ بخار کا ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھی میں ٹائفائیڈ بخار کے علاج کے لیے کئی اہم دوائیں موجود ہیں جو مریض کی حالت اور علامات کے مطابق دی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم دوا ہے
1. Bryonia
جو ٹائفائیڈ بخار کے شروع میں بہت فائدہ دیتی ہے۔ اس دوا کے مریض کو سر میں درد، آنکھوں میں بھاری پن اور زیادہ پیاس کی شکایت ہوتی ہے۔ مریض کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور حرکت کرنے سے تکلیف بڑھتی ہے۔
2. Rhus toxicodendron
رس ٹاکس ایک اور اہم دوا ہے جو ٹائفائیڈ بخار کے دوران بے چینی اور کمزوری والے مریضوں کے لیے مفید ہے۔ ایسے مریض مسلسل کروٹ بدلتے ہیں اور سکون سے لیٹ نہیں سکتے۔ ان کے جسم میں درد ہوتا ہے اور بخار کے ساتھ ساتھ تھکن بھی شدید ہوتی ہے۔
3. Arsenicum album
آرسینک البم بھی ایک اہم دوا ہے جو کمزوری اور اسہال کے ساتھ ٹائفائیڈ میں دی جاتی ہے۔ ایسے مریض بہت زیادہ نڈھال ہوتے ہیں اور تھوڑی سی حرکت سے بھی ان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔
4. Carbo vegetabilis
کاربو ویج وہ دوا ہے جو ٹائفائیڈ کے ایسے مریضوں میں فائدہ دیتی ہے جنہیں شدید کمزوری اور گیس کی شکایت ہو۔ ان کا جسم ٹھنڈا رہتا ہے اور سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے۔
ٹائفائیڈ کے علاج میں بیلاڈونا
Balladona
جیلسی میم
Gelsemium
اور فاسفورس
Phosphorus
بھی استعمال ہوتی ہیں جو علامات کے مطابق دی جاتی ہیں۔ ہومیوپیتھی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ مریض کے جسمانی اور ذہنی علامات کو دیکھ کر علاج کرتی ہے اور بیماری کی جڑ تک پہنچتی ہے۔
ٹائفائیڈ بخار ایک سنگین مرض ہے جو آلودہ پانی اور گندے کھانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نقصانات بہت خطرناک ہو سکتے ہیں لیکن اگر وقت پر علاج اور پرہیز کر لیا جائے تو اس بیماری سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہومیوپیتھک علاج مریض کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے صحتیاب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھے، صرف صاف پانی استعمال کرے اور ہلکی غذا کھائے تاکہ جسم کو جلدی صحت یابی میں مدد ملے۔
ملیریا کے بارے میں معلومات جانیں کیلئے اس لنک پر کلک کریں
https://homeopathyhealthcarergswati.blogspot.com/2025/09/malaria-treatment-urdu.html
