![]() |
| Sugar treatment |
شوگر (ذیابیطس) – ایک خاموش مگر خطرناک بیماری
شوگر یا ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جو خاموشی سے انسانی جسم کے اہم اعضاء کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ مرض دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور پاکستان میں بھی لاکھوں افراد اس سے متاثر ہیں۔ اس بیماری میں جسم یا تو انسولین پیدا نہیں کرتا یا جو انسولین بنتی ہے، وہ مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتی، جس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری دل، گردے، آنکھوں، اعصاب، جلد اور دیگر اعضاء کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
شوگر کی اقسام
ذیابیطس کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں:
- ٹائپ 1: یہ عموماً بچوں یا نوجوانوں میں پائی جاتی ہے، جس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے۔ ان مریضوں کو انسولین انجیکشن کی صورت میں لینی پڑتی ہے۔
- ٹائپ 2: یہ بالغ افراد میں زیادہ عام ہے اور اس میں جسم کی انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس قسم میں مرض کو کنٹرول کرنے کے لیے خوراک، ورزش، دیسی نسخے، یا دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔
شوگر کی علامات
شوگر کی علامات خاموشی سے ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے لوگ کئی مہینے یا سال تک اس کا شعور نہیں رکھتے۔ درج ذیل علامات پر غور کریں:
- بار بار پیشاب آنا، خاص طور پر رات کو
- زیادہ پیاس لگنا اور پانی پینے کے بعد بھی تسلی نہ ہونا
- وزن کا اچانک کم ہونا
- مسلسل تھکن، سستی اور نڈھال پن
- نظر کی کمزوری
- معمولی زخموں کا دیر سے بھرنا
- جلد پر خارش یا بار بار انفیکشن
- ہاتھوں اور پیروں میں جھنجھناہٹ یا سن ہونا
- جنسی کمزوری یا بے رغبتی
اگر یہ علامات مسلسل ظاہر ہوں تو فوراً بلڈ شوگر ٹیسٹ کروانا چاہیے۔
شوگر کی وجوہات
- خاندانی وراثت (اگر والدین یا قریبی رشتہ دار کو شوگر ہو)
- موٹاپا یا زیادہ وزن
- جسمانی سرگرمی کی کمی
- غیر متوازن غذا جیسے چینی، چاول، سفید آٹا وغیرہ کا استعمال
- ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی
- تمباکو نوشی اور شراب نوشی
- بڑھتی عمر
ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھی ایک قدرتی اور محفوظ طریقہ علاج ہے جو نہ صرف علامات کو ختم کرتی ہے بلکہ جسم کی اندرونی خرابی کو بھی درست کرتی ہے۔ درج ذیل دوائیں مختلف علامات کے مطابق مفید ہیں:
Syzygium Jambolanum
شوگر کو جلدی نیچے لانے کے لیے مشہور دوا۔ پیشاب کی زیادتی، پیاس اور جسمانی کمزوری میں فائدہ دیتی ہے۔
Uranium Nitricum
شوگر کی وجہ سے تھکن، وزن میں کمی، اور معدے کی خرابی کے لیے مفید ہے۔
Phosphoric Acid
ذہنی دباو، غم یا افسردگی سے پیدا ہونے والی شوگر کے لیے بہترین دوا۔ اعصاب کو طاقت دیتی ہے۔
Lactic Acid
زیادہ بھوک، پیاس، گیس، قبض اور جسمانی کمزوری میں فائدہ مند۔
Insulinum (Homeopathic)
انسولین کی متبادل شکل۔ خون میں شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
Natrum Sulph 30
اگر شوگر کا آغاز جگر کی خرابی سے ہوا ہو تو یہ دوا فائدہ دیتی ہے۔
Phosphorus
کمزوری، نظر کی کمزوری، پیٹ کے مسائل اور اعصابی تھکن میں کارآمد۔
سہ رخی علاج (Tri-Combination Treatment)
بعض معالجین تین دوائیں ملا کر استعمال کرواتے ہیں:
Syzygium Q + Uranium Nit Q + Cephalandra Indica Q
(ہر ایک 10، 10 قطرے آدھے کپ پانی میں دن میں تین بار)
نوٹ: ہومیوپیتھک دوا ہمیشہ مریض کی مکمل علامات کے مطابق ماہر معالج سے مشورے کے بعد استعمال کریں۔
دیسی اور قدرتی نسخے
شوگر کو قدرتی طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے کئی دیسی نسخے بھی صدیوں سے استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔
کریلا اور نیم
روزانہ صبح نہار منہ کریلے کا جوس یا نیم کے پتوں کا قہوہ پینے سے شوگر کنٹرول میں رہتی ہے۔
جامن کے بیج
جامن کے بیج پیس کر سفوف بنا لیں۔ ایک چائے کا چمچ صبح شام پانی کے ساتھ لیں۔
کلونجی اور زیتون کا تیل
ایک چمچ کلونجی کا پاؤڈر اور ایک چمچ زیتون کا تیل نہار منہ لیں۔ انسولین کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
دارچینی اور میتھی دانہ
دارچینی اور میتھی دانہ برابر مقدار میں لے کر سفوف بنا لیں۔ صبح شام آدھا چمچ استعمال کریں۔
مکئی کی روٹی
گندم یا چاول کی جگہ مکئی کی روٹی استعمال کریں، کیونکہ اس کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے۔
خشک میوہ جات
روزانہ چند بادام، اخروٹ، اور مونگ پھلی کا استعمال خون میں شکر کی مقدار متوازن رکھتا ہے۔
انار، سیب، اور امرود
یہ پھل کم شوگر والے ہیں اور جسم کو طاقت بھی دیتے ہیں۔
صبح کی سیر
روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ کی تیز واک انسولین کی کارکردگی کو بہتر کرتی ہے۔
ذہنی دباؤ سے بچاؤ
نماز، ذکر، مراقبہ، اور مثبت سوچ ذہنی سکون دیتی ہے جو شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
شوگر کے مریضوں کے لیے پرہیز
- چینی، مٹھائیاں، اور بیکری اشیاء سے پرہیز
- میٹھے مشروبات، کولڈ ڈرنکس، اور فاسٹ فوڈ سے بچاؤ
- سفید آٹے اور چاول کا کم سے کم استعمال
- تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیاء سے مکمل پرہیز
- تناؤ اور غصے سے دور رہنا
متوازن غذا
شوگر کے مریضوں کو اپنی خوراک میں فائبر، پروٹین، اور قدرتی اجزاء شامل کرنے چاہئیں۔ جیسے:
- دالیں، سبزیاں، پھل
- بھنا ہوا چنا، کالے چنے
- کم چکنائی والا گوشت
- دہی، چھاچھ، اور لسی
نتیجہ
شوگر ایک لاعلاج نہیں بلکہ قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ اگر مریض باقاعدگی سے چیک اپ کروائے، دوا اور نسخے استعمال کرے، متوازن غذا اپنائے، اور طرز زندگی میں تبدیلی لائے تو ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ ہومیوپیتھک علاج اور دیسی نسخے نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کے جسم کو طاقت دیتے ہیں اور شوگر کو جڑ سے قابو پانے میں مددگار ہیں۔
اگر شوگر کو قدرتی طریقے سے کنٹرول کرنا چاہتے ہو تو
اس لنک پر کلک کریں
https://s.daraz.pk/s.0z4iz?cc
مزید معلومات یا علاج کے لیے رابطہ کریں:
Email: rahmaniswati47@gmail.com
WhatsApp: +923161020137
