![]() |
گردے کی پتھری اور اس کا ہومیوپیتھک علاج
گردے کی پتھری ایک تکلیف دہ بیماری ہے جس میں گردوں یا مثانے کے اندر معدنی اجزاء اکٹھے ہو کر سخت شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ ذرات کبھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور پیشاب کے ساتھ بآسانی خارج ہو جاتے ہیں، لیکن اگر یہ ذرات مل کر بڑی پتھری بن جائیں تو نہ صرف پیشاب رک جاتا ہے بلکہ مریض کو ناقابلِ برداشت درد، جلن اور دیگر مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
گردے کی پتھری کیا ہے؟
گردے کی پتھری (Kidney Stones) ایسے ٹھوس ذرات ہوتے ہیں جو گردے کے اندر مختلف معدنی نمکیات مثلاً کیلشیم، آکسالیٹ، یورک ایسڈ یا فاسفیٹ کے جمع ہونے سے بنتے ہیں۔ یہ پتھریاں چھوٹی ہوں تو نکل سکتی ہیں لیکن بڑی ہونے کی صورت میں یہ پیشاب کی نالی میں پھنس کر شدید تکلیف پیدا کر دیتی ہیں۔
گردے کی پتھری کی عام علامات
کمر یا پیٹ کے ایک طرف اچانک شدید درد (Flank Pain)
پیشاب کے دوران جلن یا خون آنا
بار بار مگر تھوڑا تھوڑا پیشاب آنا
متلی یا قے کی کیفیت
بخار اور کپکپی (اگر انفیکشن ہو جائے)
پیشاب میں بدبو یا جھاگ
اکثر مریضوں میں بخار نہیں ہوتا لیکن کمر اور پیٹ کا تیز درد اور پیشاب میں جلن نمایاں علامات ہیں۔
گردے کی پتھری بننے کی وجوہات
پانی کم پینا، جس سے گردوں میں نمکیات جم جاتے ہیں
زیادہ نمک، تیز مصالحے، سوڈا اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال
گوشت اور پروٹین والی خوراک زیادہ کھانا جس سے یورک ایسڈ بڑھتا ہے
پالک، ٹماٹر اور چاکلیٹ جیسے کھانے جن میں آکسالیٹ زیادہ ہوتا ہے
وراثتی اثرات (اگر خاندان میں پہلے سے کسی کو پتھری ہو)
جسمانی سرگرمی کی کمی اور زیادہ دیر بیٹھے رہنے کی عادت
ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھی میں گردے کی پتھری کے علاج کے لیے محفوظ اور مؤثر ادویات موجود ہیں۔ یہ دوائیں جسم کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ نہ صرف درد اور علامات کو کم کرے بلکہ پتھری کو توڑ کر خارج کرنے میں بھی مدد دے۔
اہم ہومیوپیتھک ادویات
Berberis Vulgaris
دائیں گردے کے شدید درد کے لیے بہترین
پیشاب کے دوران جلن اور سرخی مائل رنگ
Lycopodium
دائیں طرف گردے میں درد اور پیٹ میں گیس
کھانے کے بعد بھاری پن اور شام کے وقت علامات میں اضافہ
Cantharis
بار بار پیشاب آنا مگر تھوڑی مقدار میں
شدید جلن اور خون آلود پیشاب
Hydrangea
چھوٹی پتھریوں کے لیے مفید
گردے میں مسلسل ہلکا درد
Sarsaparilla
پیشاب کے آخر میں شدید تکلیف
گرمیوں میں علامات زیادہ بڑھنا
گھریلو احتیاطیں اور قدرتی علاج
روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی پینا لازمی ہے
نیم گرم پانی میں لیموں کا رس شامل کر کے صبح خالی پیٹ پینا
سیب کے سرکے، ناریل پانی اور تربوز کا استعمال
چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس سے مکمل پرہیز
زیادہ نمک اور گوشت کم استعمال کریں
ورزش اور چہل قدمی کو معمول بنائیں
ہومیوپیتھک علاج کے ساتھ طرزِ زندگی کی تبدیلی
زیادہ سبزیاں اور دلیا کا استعمال
تلی ہوئی اور چکنائی والی غذا سے پرہیز
وزن کو متوازن رکھنا
باقاعدہ ورزش اور پانی زیادہ پینا
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر گردے کی پتھری کی وجہ سے درد بار بار ہو، پیشاب میں خون آئے، بخار اور قے کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر مستند ہومیوپیتھک معالج سے رجوع کریں۔
گردے کی پتھری ایک سنجیدہ مگر قابلِ علاج بیماری ہے۔ بروقت تشخیص، صحیح ہومیوپیتھک دوا کا انتخاب اور روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیاں نہ صرف درد اور تکلیف سے نجات دیتی ہیں بلکہ گردوں کی صحت بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ہم دس سال سے گردے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں ۔ الحمدللہ
بہت سے مریض ہومیو پیتھک علاج سے بہتر ہوئے ہیں ۔
آگر مریض پرہیز پر تھوڑا دھیان دےگا ۔ تو انشاء اللہ جلد ہی
مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔
اگر مریض پانی زیادہ پیئیں گے۔تو گردے سے زرات پیشاب کے ساتھ نکل جاتے ہیں ۔ اگر پتھری سائز میں بڑی ہو ۔ تو پھر ہومیو پیتھک دوا لینی چاہیے ۔ تاکہ مزید تکلیف سے بچ سکیں ۔
ہومیو پیتھک دوا سے پتھری ریزہ ریزہ ہو کر پیشاب کے ساتھ نکلتی ہے ۔ اور تکلیف بھی نہیں ہوتی ۔
گردے کی پتھری کیلئے ہم خود ہومیو پیتھک دوا بناکر دیتے ہیں ۔
اگر سائز میں بڑی ہو تو تقریباً پندرہ دن کے اندر اندر
پتھری زرات کے شکل میں پیشاب کے ساتھ نکل جاتی ہے ۔
اور زخم بھی ٹھیک ہو جاتا ہے ۔
خود سے دوا نہیں لینی چاہیے ۔ ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے دوا لینی چاہیے ۔ تاکہ پیچیدگی پیدا نہ ہو ۔

No comments:
Post a Comment