![]() |
| Prostate gland treatment in homeopathy |
پروسٹیٹ گلینڈ کا ہومیوپیتھک اور دیسی علاج
(Prostate Gland ka Homeopathic aur Desi Ilaj)
پروسٹیٹ گلینڈ مردوں کے جسم کا ایک اہم حصہ ہے جو مثانے کے نیچے واقع ہوتی ہے۔ یہ گلینڈ پیشاب کی نالی کے اردگرد لپٹی ہوتی ہے اور اس کا اصل کام مادہ منویہ میں ایک مخصوص رطوبت شامل کرنا ہوتا ہے جو تولیدی نظام کے لیے ضروری ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، اس گلینڈ کا سائز بڑھ سکتا ہے جو مختلف طبی مسائل کا باعث بنتا ہے، جن میں پیشاب کی تکلیف، کمزوری، جنسی مسائل، اور دیگر تکالیف شامل ہیں۔
پروسٹیٹ گلینڈ کی بڑھوتری کیا ہے؟
اس حالت کو میڈیکل زبان میں "Benign Prostatic Hyperplasia" یعنی "BPH" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک غیرسرطانی کیفیت ہوتی ہے مگر یہ مردوں کی زندگی کو شدید متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر چالیس سال کے بعد۔
علامات (Symptoms)
پروسٹیٹ گلینڈ کے بڑھنے یا متاثر ہونے کی صورت میں جسم کچھ مخصوص علامات ظاہر کرتا ہے جنہیں نظر انداز کرنا سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
پیشاب کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، جیسے کہ بار بار پیشاب آنا یا پیشاب کا رک رک کر آنا۔
رات کو بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا پڑتا ہے، جس سے نیند میں خلل آتا ہے۔
پیشاب کے دوران جلن یا درد کا احساس ہو سکتا ہے۔
پیشاب کی نالی کمزور ہو جاتی ہے اور پیشاب کرتے ہوئے دھیما بہاؤ آتا ہے۔
مکمل طور پر مثانہ خالی نہ ہونے کا احساس باقی رہتا ہے۔
کبھی کبھار خون آلود پیشاب بھی ہو سکتا ہے جو خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
جنسی کمزوری یا انزال کے دوران درد بھی اس کی علامات میں شامل ہو سکتا ہے۔
وجوہات (Causes)
پروسٹیٹ گلینڈ کی بیماری یا سوجن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جو درج ذیل ہیں:
عمر کے ساتھ گلینڈ کا قدرتی طور پر بڑھنا
ہارمونی تبدیلیاں، خاص طور پر ٹیسٹوسٹیرون کی کمی
خاندانی موروثی اثرات
زیادہ دیر بیٹھے رہنا اور جسمانی مشقت کی کمی
مسلسل قبض اور ناقص نظام ہضم
جنسی بے اعتدالی یا بار بار مباشرت
گردے یا مثانے میں انفیکشن کا پھیلاؤ
چربی والی خوراک اور مرغن کھانوں کا استعمال
ہومیوپیتھک علاج (Homeopathic Treatment)
ہومیوپیتھی ایک مؤثر اور بغیر سائیڈ ایفیکٹ کا طریقہ علاج ہے جو پروسٹیٹ گلینڈ کے مسائل کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ہومیوپیتھک دوا جسم کی اندرونی توانائی کو متحرک کر کے جڑ سے بیماری کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
Sabal Serrulata
یہ دوا پروسٹیٹ کے بڑھنے کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے، خاص طور پر جب مریض کو بار بار پیشاب آتا ہو، رات کو زیادہ تکلیف ہو، یا پیشاب کی نالی کمزور ہو۔
Conium Maculatum
جب مریض کو پیشاب رک رک کر آتا ہو یا پیشاب کرنے میں تکلیف ہو، تو یہ دوا بہت فائدہ دیتی ہے۔
Baryta Carb
عمر رسیدہ افراد میں جب پروسٹیٹ گلینڈ بڑھ جائے اور ساتھ ہی ذہنی کمزوری، غفلت یا سستی ہو تو یہ دوا مؤثر رہتی ہے۔
Chimaphila Umbellata
جب مریض کو پیشاب کرنے کے لیے بہت زور لگانا پڑے، یا پیشاب کے بعد بھی مثانے میں بوجھ محسوس ہو، تو یہ دوا دی جاتی ہے۔
Thuja Occidentalis
اگر پروسٹیٹ کا بڑھنا وائرل انفیکشن یا جنسی بے اعتدالی کے بعد ہوا ہو تو یہ دوا نہایت مفید ہے۔
Digitalis
دل کی دھڑکن کے ساتھ پیشاب میں رکاوٹ یا گلینڈ کی سوجن ہو تو یہ دوا فائدہ دیتی ہے۔
دیسی نسخے (Desi Totkay)
طب یونانی، آیورویدک اور دیسی طریقہ علاج میں پروسٹیٹ گلینڈ کی سوجن یا مسائل کا علاج صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ کچھ آزمودہ نسخے درج ذیل ہیں:
کدو کے بیج
کدو کے بیجوں میں زنک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو پروسٹیٹ کی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ روزانہ ایک چمچ کدو کے بیج چبا کر کھانے سے گلینڈ کی سوجن کم ہو سکتی ہے۔
موصلی سفید اور تل
موصلی سفید اور کالے تل برابر مقدار میں پیس کر آدھا چمچ صبح و شام دودھ کے ساتھ لینا فائدہ دیتا ہے۔
میتھی دانہ
میتھی دانے کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پینا اور دانے چبا کر کھانا پیشاب کی تکالیف میں راحت دیتا ہے۔
اجوائن اور سونف
اجوائن، سونف اور مصری کو برابر مقدار میں پیس کر رکھ لیں۔ آدھا چمچ صبح شام کھانے کے بعد نیم گرم پانی سے لیں۔
کلونجی کا تیل
کلونجی کا تیل دو قطرے نیم گرم پانی میں ڈال کر صبح خالی پیٹ لینا پروسٹیٹ کی سوجن اور انفیکشن میں مفید ہے۔
انار کا جوس
انار اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے، جو گلینڈ کی صحت بہتر بناتا ہے۔ روزانہ ایک گلاس انار کا رس استعمال کریں۔
احتیاطی تدابیر (Preventive Tips)
چند سادہ احتیاطی تدابیر اپنا کر پروسٹیٹ گلینڈ کی بیماری سے بچا جا سکتا ہے یا اس کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ واک یا ہلکی ورزش کریں تاکہ خون کی روانی بہتر ہو۔
پانی کا مناسب استعمال کریں مگر رات سونے سے پہلے پانی پینے سے پرہیز کریں۔
زیادہ مرچ مصالحہ، فاسٹ فوڈ اور چکنائی والی غذا سے پرہیز کریں۔
کبھی بھی پیشاب کو روکے نہیں، فوراً فارغ کریں۔
کافی، چائے اور کاربونیٹیڈ ڈرنکس کا استعمال کم کریں۔
سگریٹ نوشی یا شراب نوشی سے مکمل اجتناب کریں۔
قبض سے بچنے کی کوشش کریں تاکہ مثانے پر دباؤ نہ پڑے۔
پروسٹیٹ گلینڈ کی بیماری ایک عام مگر سنجیدہ مسئلہ ہے، جس کا بروقت علاج ضروری ہے۔ ہومیوپیتھک ادویات اور دیسی نسخے نہ صرف اس بیماری کی علامات کو کم کرتے ہیں بلکہ جڑ سے علاج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ طبی ماہر سے مشورہ لیے بغیر کوئی دوا استعمال نہ کریں۔ اگر علامات بڑھ جائیں یا خون آلود پیشاب آئے تو فوراً کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
مزید ہومیوپیتھک علاج پڑھیں
https://homeopathyhealthcarergswati.blogspot.com/2025/02/Kidney%20stones%20homeopthic%20treatment%20.html
