function googleTranslateEl

Showing posts with label Gall bladder stones treatment in homeopthic. پتے کی پتھری کا ہومیو پیتھک علاج. Show all posts
Showing posts with label Gall bladder stones treatment in homeopthic. پتے کی پتھری کا ہومیو پیتھک علاج. Show all posts

Thursday, 13 February 2025

Gall bladder stones treatment in homeopathy. پتے کی پتھری کا ہومیو پیتھک علاج

  






پتےکی پتھری کا ہومیو پیتھک علاج 


صفراوی پتھری کیوں بنتی ہے ۔

پتہ میں صفرا کے منجمد ہونے یا کسی کرم وغیرہ کے اس میں چلے جانے سے صفراوی پتھری تہیں  اس پر جم کر کنکریاں بن جاتی ہیں۔جن کے جسامت  چنے یا ماش کے دانے کے برابر ہوتی ہے ۔ کبھی ایک  اور کبھی زیادہ ہوتی ہے ۔ اور ان کے ساخت میں کولسٹرین  صفراوی رنگ میگنشیا چونا ۔ سوڈا اور پوٹاشیئم وغیرہ اجزاء موجود ہوتے ہیں ۔

جب کوئی پتھری نکل کر نالی میں آتی ہے ۔ تو سخت درد ہوتا ہے 

جسے درد جگر کہتے ہیں ۔ اور میڈیکل میں 

کہتے ہیں ۔Hepatic colic 



پتے کی پتھری کا ہومیوپیتھک علاج


پتے کی پتھری (Gallstones) ایک عام مگر تکلیف دہ مسئلہ ہے


جو نظامِ ہاضمہ پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں اس کا مؤثر اور محفوظ علاج موجود ہے، جس سے بغیر کسی سرجری کے اس مسئلے سے نجات ممکن ہو سکتی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم پتے کی پتھری کی وجوہات، علامات، پیچیدگیاں، پرہیز، طرزِ زندگی میں تبدیلی، اور بہترین ہومیوپیتھک دواؤں پر تفصیل سے بات کریں گے۔




پتے کی پتھری کیا ہے؟


پتہ (Gallbladder) جگر کے نیچے ایک چھوٹا سا عضو ہوتا ہے جو بائل (صفراء) کو ذخیرہ کرتا ہے۔ بائل نظامِ ہاضمہ میں چربی کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب بائل میں کولیسٹرول یا کیلشیم کا توازن بگڑتا ہے، تو یہ سخت ہو کر پتھری کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

پتھریاں چھوٹے ریت کے ذروں جتنی بھی ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات اخروٹ جتنی بڑی بھی۔




پتے کی پتھری کی وجوہات


چکنائی والی غذا زیادہ کھانا (Fried foods, Dairy products)


موٹاپا اور زیادہ وزن


وراثتی (Genetics) اثرات


ذیابیطس یا جگر کی بیماریاں


بہت تیزی سے وزن کم کرنا (Crash dieting)


کولیسٹرول یا بائل کا غیر متوازن اخراج


پانی کم پینا اور غیر متوازن خوراک


چاول اور کولڈرنک کا مسلسل استعمال


چکنائی اور گوشت کا زیادہ استعمال



تحقیقات کے مطابق خواتین میں مردوں کی نسبت پتے کی پتھری زیادہ پائی جاتی ہے، خاص طور پر حاملہ خواتین یا وہ خواتین جو پیدائش کے بعد زیادہ وزن رکھتی ہیں۔




پتے کی پتھری کی علامات


پیٹ کے دائیں جانب شدید درد، خاص طور پر کھانے کے بعد


کھانے کے بعد پیٹ پھول جانا


متلی اور الٹی کی شکایت


ہاضمے کی خرابی، خاص طور پر چکنائی ہضم نہ ہونا


جگر پر دباؤ اور آنکھوں کی سفیدی یا جلد کا زرد ہونا (یرقان)


کبھی کبھار بخار اور سردی لگنے کی شکایت


بھوک کی کمی


سینے میں جلن اور بدہضمی



بعض مریضوں میں پتھری ہونے کے باوجود کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اسے "Silent Gallstones" کہا جاتا ہے۔


                   اسباب۔    

دائمی قبض۔ پتہ کی سوزش اور دیگر جگرکے امراض اس کا سبب بنتے ہیں ۔ زیادہ گوشت یا شراب پینا ۔ سست اور عیاشی والی زندگی بسر کرنا بھی اس کا سبب بنتی ہے ۔ 


پتے کی پتھری کی پیچیدگیاں


اگر پتھری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ درج ذیل مسائل پیدا کر سکتی ہے:


پتہ سوج جانا (Cholecystitis)


بائل نالی میں رکاوٹ


جگر یا لبلبے کا انفیکشن


شدید درد اور ہاضمے کے مسائل


جگر کی کارکردگی متاثر ہونا



اسی لیے علامات ظاہر ہوتے ہی علاج کرانا ضروری ہے۔




ہومیوپیتھک علاج – بہترین دوائیں


ہومیوپیتھی میں بہت سی مؤثر دوائیں ہیں جو پتھری کو تحلیل (dissolve) کرنے، درد کم کرنے اور جگر کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں:


1. Chelidonium Majus


جگر اور پتے کے مسائل کے لیے بہترین دوا


درد دائیں طرف ہو، چکنائی ہضم نہ ہو رہی ہو


متلی، بھوک کی کمی، زبان پر پیلا کوٹنگ



2. Berberis Vulgaris


پتے میں درد دائیں طرف سے کمر تک پھیلتا ہو


پیشاب میں جلن اور پیلا پن


بار بار پتھری بننے کا رجحان ہو



3. Carduus Marianus


چکنائی ہضم نہ ہونا


جگر اور پتے پر دباؤ اور جلن


جسمانی کمزوری اور طبیعت میں سستی



4. Lycopodium


پیٹ بہت زیادہ پھولتا ہو


کھانے کے بعد گیس اور بدہضمی


تھوڑا کھانے پر بھی پیٹ بھرا محسوس ہونا



5. Nux Vomica


غلط خوراک اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کا نتیجہ


قبض، تیزابیت، متلی


زیادہ کھانے، شراب نوشی یا مرغن غذا کے بعد طبیعت کا بگڑنا




غذا اور طرزِ زندگی کی تبدیلیاں


ہومیوپیتھک علاج کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں بہت ضروری ہیں:


روزانہ کم از کم 8-10 گلاس پانی پئیں


مرغن، تلی ہوئی اور چکنائی والی غذا سے پرہیز کریں


ہری سبزیاں، دلیا، پھل اور فائبر والی غذا کا زیادہ استعمال کریں


لیموں پانی اور سیب کے سرکہ کا استعمال


روزانہ 30 منٹ کی ورزش یا چہل قدمی


وزن کو متوازن رکھیں


چاول اور کولڈرنک کا استعمال محدود کریں



گھریلو نسخہ:

ہر صبح خالی پیٹ نیم گرم پانی میں لیموں کا رس ملا کر پینا پتھری تحلیل کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

مقام درد پر جوشاندہ پوست کی ٹکور کریں ۔ یا گرم گرم السی کی 

پلٹس باندھیں ۔ گرم پانی بوتل میں بھر کر سینک دیں ۔ اگر قے آئے تو برف کے ٹکڑے چوسنے کیلئے دیں۔ اگر قبض ہوتو فوراً  قبض ختم کرنے کی داوا دیں۔ پینے کے لیے سوڈا واٹر اور دودھ ملا کر دیں۔ تازہ سبزیاں کا استعمال مفید ہے 

شراب و نشاستہ سے پرہیز لازم ہے ۔ 



مریضوں کے ساتھ تجربات


ہمارے کلینک میں پچھلے نو سال میں تقریباً بیس کیسز ایسے آئے جن میں پتے کی پتھری ہومیوپیتھک علاج کے ذریعے بغیر کسی سرجری کے تحلیل ہو گئی۔

یہ مریض مناسب پرہیز، دوا کا بروقت استعمال اور طرزِ زندگی میں تبدیلی سے صحت یاب ہوئے۔




کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟


اگر آپ کو بار بار درد ہو، الٹی، بخار یا شدید علامات نظر آئیں تو فوری طور پر کسی ماہر ہومیوپیتھک معالج سے رجوع کریں۔




آن لائن مشورہ حاصل کریں


اگر آپ پتے کی پتھری کے لیے قدرتی، محفوظ اور مؤثر علاج چاہتے ہیں تو مجھ سے آن لائن مشورہ حاصل کریں۔


رابطہ کریں:

📞 WhatsApp: 03161020137

✉️ Email: rahmaniswati47@gmail.com






ڈینگی بخار: اسباب، علامات، نقصانات، ہومیوپیتھک علاج اور مؤثر دیسی نسخے

                                                        ڈینگی وائرس کے بارے میں اہم معلومات                            ڈینگی بخار  ڈینگی بخا...