![]() |
| Itching treatment In homeopthic |
خارش کے گھریلوں نسخے
اور ہومیو پیتھک علاج
خارش انسانی جلد کا ایک ایسا تکلیف دہ اور بے چین کر دینے والا عارضہ ہے جو انسان کے آرام، سکون اور روزمرہ کی زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے۔ جب جلد پر خارش کا احساس پیدا ہوتا ہے تو انسان بے اختیار ہو کر اپنے جسم کو سہلانے یا کھجانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ شدید خارش کی حالت میں جلد پر سرخ دھبے، چھوٹے چھوٹے دانے، چھالے، خشکی اور بعض اوقات زخم تک بن جاتے ہیں۔ یہ بیماری صرف ایک جسمانی تکلیف نہیں ہے بلکہ یہ انسان کی ذہنی تسکین کو ختم کر کے اسے چڑچڑے پن، بے خوابی اور شدید کوفت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ خارش کی یہ کیفیت جسم کے کسی ایک خاص حصے پر بھی ہو سکتی ہے اور بعض اوقات پورا جسم اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اگر بروقت اس کی وجوہات کا سراغ نہ لگایا جائے اور درست طریقہ علاج اختیار نہ کیا جائے تو یہ بیماری دائمی صورت اختیار کر کے جلد کی مستقل تباہی کا باعث بنتی ہے۔
خارش کے وجوہات
خارش کی بیماری کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بے شمار اندرونی اور بیرونی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی اور عام بیرونی وجہ جلد کی شدید خشکی ہے۔ جب جلد میں قدرتی نمی اور تیل کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو جلد کی اوپری سطح پھٹنے لگتی ہے، جس سے خارش کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں، بار بار تیز صابن سے نہانے سے یا انتہائی گرم پانی کے استعمال سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی، تیز دھوپ، کیمیکل والے صابن، شیمپو، ڈیٹرجنٹ اور ناقص کپڑوں خصوصاً نائلون یا اون کے مسلسل استعمال سے بھی جلد پر الرجی اور خارش شروع ہو جاتی ہے۔
ایک اور انتہائی اہم اور وبائی وجہ جسے اسکیبیز کہا جاتا ہے، خارش کے پھیلنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہ ایک مائیکروسکوپک کیڑے یا پرجیوی کے جلد کی اندرونی سطح میں سوراخ کر کے انڈے دینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس قسم کی خارش میں مریض کو رات کے وقت شدید ترین خارش ہوتی ہے جو برداشت سے باہر ہو جاتی ہے۔ یہ کیڑا ایک انسان سے دوسرے انسان میں بستر کی چادروں، تکیوں، کپڑوں اور جسمانی رابطے کے ذریعے بہت تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔ اگر گھر کے کسی ایک فرد کو یہ بیماری لاحق ہو جائے تو پورا گھرانہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
جسمانی اور اندرونی امراض بھی خارش کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ جگر، گردے اور تھائیرائیڈ کے امراض میں مبتلا افراد میں خارش کی شکایت عام دیکھی جاتی ہے۔ جب جگر یا گردے جسم سے زہریلے مادوں اور فاسد مادہ جات کو صحیح طریقے سے باہر نکالنے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ زہریلے عناصر خون میں شامل ہو کر جلد کی سطح پر جمع ہونے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں شدید خارش شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس کے مریضوں میں بھی خون کی گردش میں کمی اور جلد کی خشکی کی وجہ سے خارش کا مرض عام ہوتا ہے۔
خوراک اور غذائی حساسیت
خوراک اور غذائی حساسیت بھی خارش کا ایک اہم سبب ہے۔ بعض افراد کو مخصوص اشیاء جیسے انڈے، مچھلی، جھینگے، مونگ پھلی، دودھ یا پھر مصنوعی رنگوں اور خمیر شدہ خوراک سے الرجی ہوتی ہے۔ جب یہ اشیاء جسم کے اندر جاتی ہیں تو مدافعتی نظام متحرک ہو کر ہسٹامین نامی کیمیکل خارج کرتا ہے جو جلد پر سرخی، سوجن اور خارش پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی تناؤ، پریشانی اور ڈپریشن بھی جلد کی حساسیت کو بڑھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے بعض افراد بغیر کسی بظاہر سکن پرابلم کے بھی جسم پر خارش محسوس کرتے ہیں۔
خارش سے نجات کیسے پائے ؟
خارش سے نجات پانے اور جلد کو فوری سکون پہنچانے کے لیے قدرتی اور گھریلو نسخے نہایت کارآمد اور محفوظ ترین ذریعہ مانے جاتے ہیں۔ گھریلو علاج نہ صرف خارش کی شدت کو کم کرتے ہیں بلکہ جلد کی اندرونی سوزش کو ختم کر کے اسے دوبارہ صحت مند بناتے ہیں۔
ناریل کا تیل اور کافور کا استعمال
ناریل کا تیل اور کافور کا آمیزہ خارش کے لیے ایک بہترین قدرتی علاج ہے۔ ناریل کے تیل میں قدرتی طور پر جراثیم کش اور جلد کو نمی فراہم کرنے والی خصوصیات ہوتی ہیں، جبکہ کافور جلد کو ٹھنڈک پہنچا تا ہے اور خارش کے احساس کو فوری طور پر سن کر دیتا ہے۔ سو گرام ناریل کے تیل میں دس گرام کافور کو اچھی طرح حل کر کے خارش زدہ حصے پر لگانے سے پرانی سے پرانی خارش اور خارش کے دانوں سے فوری راحت ملتی ہے۔
ایلوویرا جیل
ایلوویرا یعنی کنوار گندل کا تازہ جیل خارش اور جلن کا سستا اور شاندار حل ہے۔ ایلوویرا کے پتے سے تازہ جیل نکال کر متاثرہ جلد پر لگانے سے خارش اور سوجن میں فوراً کمی آتی ہے۔ اس کے اندر موجود قدرتی شفا بخش عناصر جلد کے زخموں کو بھرتے ہیں اور جراثیم کا خاتمہ کرتے ہیں۔ خارش کے مریضوں کو دن میں دو سے تین بار ایلوویرا جیل کا لیپ کرنا چاہیے۔
نیم کے پتے سے نہانا
نیم کے پتے خارش کی بیماری کے لیے قدیم زمانوں سے مستعمل اور بے حد مفید نسخہ ہیں۔ نیم میں اینٹی بیکٹیریل، اینٹی فنگل اور اینٹی وائرل خصوصیات کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس پانی سے نہانا جسم کے تمام جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نیم کے پتوں کو پیس کر اس میں تھوڑی سی ہلدی ملا کر خارش والی جگہ پر لیپ کرنے سے خون کی صفائی ہوتی ہے اور جلد کی سوزش دور ہو جاتی ہے۔
چمیلی کا تیل اور لیموں
چمیلی کا تیل اور لیموں کا رس ملا کر لگانا بھی خارش کے مریضوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ دو چمچ چمیلی کے تیل میں ایک چمچ لیموں کا تازہ رس ملا کر جسم پر مالش کرنے سے خارش کے کیڑے اور الرجی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ لیموں کے اندر موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کی رنگت اور صحت کو بحال کرتے ہیں۔
بیکنگ سوڈا کا استعمال
بیکنگ سوڈا اور پانی کا پیسٹ بھی فوری آرام فراہم کرتا ہے۔ ایک چمچ بیکنگ سوڈے میں تھوڑا سا پانی ملا کر پیسٹ بنا لیں اور جہاں شدید خارش ہو وہاں لگا دیں۔ چند منٹوں میں خارش کی شدت ختم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ نہانے کے پانی میں ایک کپ سیب کا سرکہ ملا کر نہانے سے جلد کی تیزابیت متوازن ہوتی ہے اور خارش پیدا کرنے والے جراثیم مر جاتے ہیں۔
جہاں گھریلو نسخے عارضی راحت اور جلد کی حفاظت فراہم کرتے ہیں، وہاں ہومیوپیتھک کا طریقہ علاج خارش کی بنیادی وجہ کو تلاش کر کے اسے جڑ سے ختم کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں مریض کی مجموعی جسمانی کیفیت، علامات اور خارش کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر دوا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
ہومیو پیتھک علاج
سلفر
سلفر ہومیوپیتھی کے شعبے میں سکن کی تمام بیماریوں اور بالخصوص خارش کی بادشاہ دوا سمجھی جاتی ہے۔ یہ دوا ان مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے جن کی خارش بستر کی گرمی سے، نہانے سے یا رات کے وقت بے حد بڑھ جاتی ہو۔ ایسے مریضوں کی جلد خشک، کھردری اور گندی نظر آتی ہے اور کھجانے کے بعد شدید جلن اور مٹھاس بھرا احساس ہوتا ہے۔ سلفر جسم کے تمام زہریلے مادوں کو باہر نکال کر خارش سے مکمل نجات دلاتی ہے۔
سورائینم
سورائینم ان مریضوں کے لیے معجزاتی اثر رکھتی ہے جنہیں شدید ترین خارش کی شکایت ہو اور موسم سرما کے آتے ہی ان کی بیماری مزید شدت اختیار کر جائے، یہاں تک کہ مریض کھجا کھجا کر جلد سے خون نکال لیتا ہو۔ اگر مریض کو رات کو بستر میں لیٹتے ہی خارش کے شدید دورے پڑیں اور تمام روایتی ادویات ناکام ہو چکی ہوں تو سورینم بیماری کی جڑ کو ختم کر دیتی ہے۔
ارسینکم البم
آرسینکم البم ان افراد کے لیے بہترین ہومیوپیتھک دوا ہے جن کی خارش میں شدید جلن ہوتی ہو جیسے جلد پر انگارے رکھ دیے گئے ہوں۔ مریض کو ٹھنڈے پانی یا ٹھنڈی ہوا سے تکلیف بڑھتی ہے جبکہ گرم کپڑے یا گرم پانی سے سیکنے سے سکون ملتا ہے۔ ایسے مریضوں کی جلد پر خشک چھلکے بنتے ہیں اور مریض بے چینی اور کمزوری کا شکار ہوتا ہے۔
گریفائٹس
گریفائٹس ان مریضوں کو دی جاتی ہے جن کی خارش کی وجہ سے جلد پھٹ جاتی ہو اور زخموں میں سے شہد کی طرح چپچپا، گاڑھا اور شفاف پانی نکلتا ہو۔ خاص طور پر کانوں کے پیچھے، نتھنوں پر، انگلیوں کے درمیان اور جوڑوں کے مڑنے والی جگہوں پر ہونے والی خارش اور جلدی مسائل میں گریفائٹس بے حد شاندار نتائج دیتی ہے۔
مرکریوس سولیوبلس
مرکریوس سولیوبلس اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب خارش رات کے وقت بستر کی گرمی سے بہت زیادہ بڑھ جائے اور کھجانے کے بعد سوجن یا پیپ والے دانے بن جائیں۔ اس دوا کے مریضوں میں کثرت سے پسینہ آنے اور منہ میں تھوک کی زیادتی کی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔
پلساٹیلا
پلساٹیلا ان خواتین یا بچوں کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہے جنہیں چربیلے کھانوں، گھی یا مکھن کے استعمال کے بعد جلد پر خارش کا مسئلہ پیدا ہوتا ہو اور کھلی ہوا میں جانے سے ان کی علامات میں بہتری آتی ہو۔
خارش کی اذیت ناک بیماری سے بچاؤ اور مکمل شفا کے لیے صرف ادویات ہی نہیں بلکہ صفائی ستھرائی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ روزانہ نیم گرم پانی سے نہائیں، سوتی اور ڈھیلے کپڑے پہنیں، اپنے بستر کی چادروں اور تکیوں کو ہفتے میں کم از کم ایک بار گرم پانی سے دھوئیں۔ اگر گھر میں کسی ایک فرد کو خارش ہو تو اس کا تولیہ، کپڑے اور بستر الگ کر دیں تاکہ بیماری دوسرے افراد تک نہ پھیلے۔ زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں تاکہ جسم سے زہریلے مادے خارج ہوتے رہیں اور تلی ہوئی، مصالحہ دار اور پروسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔ احتیاط، بہترین گھریلو التدابیر اور درست ہومیوپیتھک علاج کے ذریعے خارش سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
الرجی اور چھینکوں کے گھریلوں نسخے کیلیے
اس لنک پر کلک کریں
https://homeopathyhealthcarergswati.blogspot.com/2026/09/dust-allergy-sneezing-causes-homeopathic-treatment-remedies-urdu.html
