![]() |
| قد بڑھانے کا آسان طریقہ |
تعارف
قد ایک ایسا عنصر ہے جو انسان کی شخصیت میں خوبصورتی، خوداعتمادی اور اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں۔ اگرچہ قد کا زیادہ تر تعلق جینیات سے ہوتا ہے، لیکن کچھ قدرتی طریقے، متوازن غذا، ہارمونی توازن اور ورزش کی مدد سے اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
قد بڑھنے کے عوامل
قد بڑھنے کے پیچھے درج ذیل عوامل ہوتے ہیں:
وراثت (جینیاتی اثرات)
اگر ماں باپ یا خاندان میں زیادہ افراد کا قد چھوٹا ہو تو بچے کا قد بھی چھوٹا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
ہارمونز
گروتھ ہارمونز (GH)، تھائیرائڈ ہارمونز، انسولین اور جنسی ہارمونز قد کی نشوونما پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
غذا
متوازن اور صحت مند غذا بچوں اور نوجوانوں کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
نیند
رات کی نیند کے دوران گروتھ ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو قد کی بڑھوتری کے لیے ضروری ہیں۔
ورزش
روزانہ کی باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور اسٹریچنگ ورزشیں جسم کی نشوونما کو فروغ دیتی ہیں۔
قد بڑھانے کے قدرتی طریقے
متوازن غذا کا استعمال
- پروٹین سے بھرپور غذا جیسے انڈے، دودھ، گوشت، مچھلی
- کیلشیم والی اشیاء جیسے دودھ، دہی، پنیر
- آئرن، زنک، وٹامن D اور وٹامن B کمپلیکس
- سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، گری دار میوے، بیج
ورزشیں
بارفکس (Pull-ups
جاگنگ
سویمنگ
رسی کودنا
یوگا کی مشقیں (خصوصاً تاڑ آسان)
اسٹریچنگ ورزشیں
پانی کا استعمال
روزانہ 8 سے 10 گلاس پانی پینے سے جسم کے نظام درست کام کرتے ہیں اور نشوونما بہتر ہوتی ہے۔
صحیح نیند لینا
رات کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینا گروتھ ہارمونز کی بہتر کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔
قد بڑھانے کے دیسی نسخے
مکھن اور گڑ
روزانہ صبح نہار منہ مکھن اور گڑ کا استعمال قد بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اشوگندھا پاؤڈر
ایک گلاس گرم دودھ میں آدھا چمچ اشوگندھا پاؤڈر ملا کر رات کو سونے سے پہلے پینا۔
بادام اور کھجور
روزانہ 5 بادام اور 2 کھجور کھانے سے جسم میں توانائی اور نشوونما میں بہتری آتی ہے۔
انجیر اور دودھ
خشک انجیر کو رات بھر بھگو کر صبح دودھ کے ساتھ کھانے سے ہڈیوں کو طاقت ملتی ہے۔
قد بڑھانے کے ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھی میں کئی ایسی ادویات موجود ہیں جو جسمانی نشوونما اور گروتھ ہارمونز کو متحرک کر کے قد میں اضافہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ مؤثر ادویات درج ذیل ہیں:
Baryta Carbonica 200
یہ دوا بچوں اور نوجوانوں کے لیے مفید ہے جن کی جسمانی نشوونما رک گئی ہو۔
Silicea 6X یا 12X
ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور نشوونما کے لیے اہم دوا۔
Calcarea Phosphorica 6X
یہ دوا ہڈیوں اور دانتوں کی کمزوری، اور قد کی کمی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
Symphytum Officinale Q
ہڈیوں کی مضبوطی اور لمبائی میں اضافہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
Thuja Occidentalis 200
جسمانی ساخت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، خاص طور پر اگر ویکسینیشن کے بعد نشوونما رکی ہو۔
Tuberculinum Bovinum 200
اگر قد چھوٹا ہو اور خاندان میں بھی ایسے افراد ہوں تو یہ دوا مددگار ہو سکتی ہے۔
نوٹ: ہومیوپیتھک دوا کا استعمال کسی ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔
قد بڑھانے کے لیے اہم مشورے
- بچوں کو بچپن سے متحرک رکھیں
- موبائل اور ٹی وی سے زیادہ وقت دور رکھیں
- جنک فوڈ اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز
- روزانہ کم از کم 30 منٹ سورج کی روشنی میں رہیں
- سیدھا چلنے اور بیٹھنے کی عادت اپنائیں
- موٹاپے سے بچیں کیونکہ یہ گروتھ کو روکتا ہے
کیا بالغ افراد بھی قد بڑھا سکتے ہیں۔ ۔
عام طور پر 18 سے 21 سال کی عمر تک قد بڑھنے کا عمل رک جاتا ہے، لیکن:
- ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا کرنے والی ورزشیں
- یوگا
- بہتر پوسچر
- فزیکل تھراپی
...ان سب کی مدد سے بالغ افراد بھی کچھ حد تک اپنا قد بہتر - کر سکتے ہیں۔
کیا سپلیمنٹس مددگار ہوتے ہیں۔ ؟
بازار میں کئی سپلیمنٹس دستیاب ہیں، لیکن زیادہ تر کا سائنسی ثبوت نہیں ہوتا۔ ان کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔ قدرتی طریقے ہمیشہ محفوظ اور پائیدار ہوتے ہیں۔
قد بڑھانا ایک مسلسل عمل ہے، جو صبر، محنت، غذا، نیند اور صحت مند طرزِ زندگی کا مجموعہ ہے۔ اگر آپ وقت پر اپنی نشوونما کا خیال رکھیں تو قدرتی طریقے سے قد بڑھانا ممکن ہے۔ ہومیوپیتھی اس میں مؤثر اور محفوظ متبادل فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ تجربہ کار معالج سے مشورہ کیا جائے۔
قد میں کمی سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل
چھوٹے قد کے باعث بعض افراد میں خود اعتمادی کی شدید کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں، خاص طور پر جب وہ ملازمت، شادی یا کسی مجمع میں دوسروں کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر سماجی تقریبات سے گریز کرتے ہیں اور اکیلا پن اختیار کر لیتے ہیں۔ بچوں میں یہ مسئلہ اسکول کے ماحول میں بھی سامنے آتا ہے جہاں ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا انہیں کھیلوں میں منتخب نہیں کیا جاتا۔ اس سے ان کے اندر احساسِ کمتری پیدا ہو سکتا ہے جو پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
قد بڑھانے کے لیے یوگا کی اہمیت
یوگا جسمانی توازن، اسٹریچنگ، اور عضلات کی لچک کے لیے نہایت مؤثر مانا جاتا ہے۔ درج ذیل یوگا آسن (پوزز) قد میں اضافہ کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں:
تاڑ آسن (Tadasana): سیدھا کھڑے ہو کر ہاتھوں کو اوپر کی جانب کھینچنے سے ریڑھ کی ہڈی سیدھی ہوتی ہے اور جسم میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے۔
بھُجنگ آسن (Bhujangasana): پیٹھ کے بل لیٹ کر اوپر کی طرف سینہ اٹھانے سے کمر کی لچک بڑھتی ہے۔
سوریا نمسکار: پورے جسم کے لیے ایک مکمل ورزش ہے جو خون کی روانی کو بہتر بنا کر نشوونما کو فروغ دیتی ہے۔
ان یوگا مشقوں کو روزانہ کم از کم 15 سے 20 منٹ کرنا مفید ہوتا ہے، خاص طور پر صبح کے وقت۔
کھیل کود کا کردار
بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی مختلف کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینی چاہیے۔ باسکٹ بال، والی بال، سوئمنگ، رسی کودنا، اور بارفکس جیسی سرگرمیاں جسم کو فعال رکھتی ہیں اور قدرتی طور پر گروتھ ہارمونز کی افزائش میں مدد دیتی ہیں۔ کھیل کود نہ صرف جسمانی نشوونما میں مدد دیتی ہے بلکہ بچوں میں خود اعتمادی اور ٹیم ورک جیسی صلاحیتوں کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
بیس سال تک رسی کودنا ۔ اور جمپنگ کرنا لازمی کریں ۔
صبح سویرے واک دوڑ کے شکل میں کرے ۔ اس سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے ۔
حمل کے دوران غذائی احتیاطیں
ماں کی صحت کا بچے کی قد اور جسمانی نشوونما پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ حمل کے دوران متوازن غذا، وٹامنز، کیلشیم، آئرن، اور فولک ایسڈ کا استعمال بچے کی بہتر جسمانی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔ ماں کی کمزوری یا غذائی قلت بچے کی ہڈیوں کی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے جس سے بعد میں قد چھوٹا رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
کیا ہومیوپیتھی سے واقعی فرق پڑتا ہے؟
ہومیوپیتھک علاج کا بنیادی اصول جسم کو خود سے ٹھیک ہونے کی تحریک دینا ہے۔ اگر جسم میں گروتھ ہارمونز کی پیداوار یا جذب ہونے میں کوئی رکاوٹ ہو تو ہومیوپیتھک ادویات اس عمل کو متحرک کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ چونکہ یہ ادویات قدرتی اجزاء سے تیار کی جاتی ہیں اور سائڈ ایفیکٹ نہیں رکھتیں، اس لیے لمبے عرصے تک محفوظ طریقے سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ البتہ، ہر فرد کی جسمانی ساخت اور مزاج مختلف ہوتا ہے، اس لیے دوا کا انتخاب ماہر معالج کی رہنمائی سے ہی ہونا چاہیے۔
مزید معلومات پڑھیں
https://homeopathyhealthcarergswati.blogspot.com/2025/05/Anxiety-ka-%20ilaj-%20bechani-ka-ikaj.html


